جمعہ 18 ستمبر 2026 - 17:33
عالمی سطح پر بڑھتے فکری و سماجی فساد کا مقابلہ بصیرت اور دینی شعور سے ممکن ہے، مولانا سید علی سجیر رضوی

حوزہ/ امام جمعہ حسین آباد جھارکھنڈ مولانا سید علی سجیر رضوی نے خطبۂ جمعہ میں ’’فساد اور اس کا تدارک‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں فساد صرف معاشرتی برائیوں تک محدود نہیں بلکہ فکری، اخلاقی، خاندانی، مالی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے بھی انسانی معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں آگاہی، بصیرت اور صحیح دینی فہم کو ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حسین آباد، جھارکھنڈ/ مولانا سید علی سجیر رضوی امام جمعہ حسین آباد نے آج شیعہ عید گاہ حسین آباد، جھارکھنڈ میں جمعہ کے خطبہ میں خطاب کرتے ہوئے "فساد اور اس کا تدارک" کے اہم موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے قرآن مجید کی آیت «وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا» کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام ہر قسم کے فساد کی سخت مذمت کرتا ہے۔

امام جمعہ حسین آباد جھارکھنڈ نے فساد کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی چیز کا اپنی طبیعی اور شرعی حد سے تجاوز کر جانا فساد کہلاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فساد محض ایک دائرے تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی، مالی، سماجی، سیاسی، خاندانی اور بالخصوص ڈیجیٹل و مجازی مفاسد کی صورت میں ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے ذریعے زمین کی اصلاح فرمائی، لیکن الٰہی راستے سے انحراف، طغیان، اسراف اور ظالم حکمرانوں کی پیروکاری نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔ امام صادق علیہ السلام کے قول کی روشنی میں انہوں نے زور دیا کہ "ظاہر کا فساد دراصل باطن کے فساد کا نتیجہ ہوتا ہے"، لہٰذا جب تک انسان اپنے اندرونی رویوں کی اصلاح نہیں کرتا، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

معاشرے اور خاندانوں کو فساد سے بچانے کا بنیادی حل بیان کرتے ہوئے انہوں نے "آگاہی اور بصیرت" کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے والدین اور نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا، گمراہ کن ویب سائٹس اور مبتذل سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے منفی اثرات سے بیدار رہیں۔

خطبہ کے اختتام پر مولانا سید علی سجیر رضوی نے حدیثِ نبویؐ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسانی کامرانی کا راز دین کی صحیح فہم اور معرفت میں مضمر ہے۔ انہوں نے قوم کو خبردار کیا کہ دین کو ہلکا اور معمولی سمجھنے کی روش سے بچیں اور اپنے عقائد کو محکم بناتے ہوئے سیرتِ اہل بیتؑ پر گامزن ہوں تاکہ معاشرہ ہر قسم کے فساد سے پاک ہو سکے

خطبہ کے اختتام سے پہلے ظالمین کی نابودی اور مظلومین جہان ، مجاہدین اسلام , مراجع کرام خصوصا امام وقت کی سلامتی کی دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha